Going For Study in Sydney Australia MBA Graduation
Modern problems and their solutions


 Modern problems and their solutions

  جدید مسائل اور ان کا حل


مسئلہ نمبر 16 :

ٹیلیفون، انٹرنیٹ اور ویڈیو کال کے ذریعے نکاح کرنے کا شرعی حکم 👇👇


• تمہید :

اس مسئلہ کو سمجھنے سے پہلے ایک بات کا جاننا نہایت ضروری ہے۔ وہ یہ کہ 

نکاح میں چار افراد کا ہونا ضروری ہے۔

1. دولہا 2. دولہن 

3. نکاح کے دوگواہان

 اگر دولہا یا دلہن موجود نہ ہو تو اس کی طرف سے ایک وکیل اور اس وکیل کے ساتھ دوسرے گواہ کا ہونا ضروری ہے۔

اسی طرح ان سب افراد کا ایک محفل میں ہونا ضروری ہے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک دوسری محفل میں ہو تو نکاح درست نہیں ہوگا۔ 

اس بات کو سمجھنے کے بعد اب ہم اصل مسئلے کی طرف آتے ہیں۔


ٹیلیفون، انٹرنیٹ اور ویڈیو کال کے ذریعے نکاح کرنے کا شرعی حکم 👇👇


ٹیلی فون ، انٹرنیٹ اور ویڈیو کال کے ذریعے اگر دولہا اور دلہن ایجاب وقبول (یعنی دولہا اور دلہن ہاں ) کریں تو اس طرح ان کا نکاح نہیں ہوتا۔ جیسا کہ عموماً آج کل آزاد لوگ کرتے ہیں۔


کیونکہ نکاح میں دو گواہوں کا ہونا ضروری ہے۔ اور اسی طرح ان سب کا ایک محفل میں بھی ہونا ضروری ہے۔ چونکہ ٹیلیفون اور انٹرنیٹ کے ذریعے نکاح کرنے میں نہ گواہ موجود ہوتے ہیں اور نہ ہی محفل ایک ہوتی ہے کیوں کہ دولہا کہیں اور ہوتا ہے اور دلہن کہیں اور۔

 تو اس لئے ٹیلیفون اور انٹرنیٹ وغیرہ کے ذریعے نکاح نہیں ہوتا۔

 چاہے کانفرنس کال ہو یا ویڈیو کال ہو۔


البتہ ٹیلی فون اور انٹرنیٹ وغیرہ پر نکاح کے درست ہونے کی ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ مرد و عورت میں سے کوئی ایک مثلاً ،عورت  فون پر کسی ایسے آدمی کو اپنا وکیل بنادے جو مرد کے پاس موجود ہو اور وہ عورت کا وکیل دو گواہوں(یعنی دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں) کی موجودگی میں غائب عورت کی طرف سے ایجاب (ہاں) کرلے اور مرد اسی مجلس میں قبول کرلے تو اس طرح کرنے سے یہ نکاح صحیح ہوجائے گا۔


حوالہ جات :

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 14):


"ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين.


 (قوله: اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد".


الفتاوى الهندية (1/ 269):


"(ومنها) أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس بأن كانا حاضرين فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول أو اشتغل بعمل يوجب اختلاف المجلس لا ينعقد، وكذا إذا كان أحدهما غائباً لم ينعقد حتى لو قالت امرأة بحضرة شاهدين: زوجت نفسي من فلان وهو غائب فبلغه الخبر فقال: قبلت، أو قال رجل بحضرة شاهدين: تزوجت فلانةً وهي غائبة فبلغها الخبر فقالت: زوجت نفسي منه لم يجز وإن كان القبول بحضرة ذينك الشاهدين وهذا قول أبي حنيفة ومحمد -رحمهما الله تعالى - ولو أرسل إليها رسولاً أو كتب إليها بذلك كتاباً فقبلت بحضرة شاهدين سمعا كلام الرسول وقراءة الكتاب؛ جاز لاتحاد المجلس من حيث المعنى".


بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 231):


"ثم النكاح كما ينعقد بهذه الألفاظ بطريق الأصالة ينعقد بها بطريق النيابة، بالوكالة، والرسالة؛ لأن تصرف الوكيل كتصرف الموكل، وكلام الرسول كلام المرسل، والأصل في جواز الوكالة في باب النكاح ما روي أن النجاشي زوج رسول الله صلى الله عليه وسلم  أم حبيبة - رضي الله عنها - فلا يخلو ذلك إما أن فعله بأمر النبي صلى الله عليه وسلم  أو لا بأمره، فإن فعله بأمره فهو وكيله، وإن فعله بغير أمره فقد أجاز النبي صلى الله عليه وسلم  عقده، والإجازة اللاحقة كالوكالة السابقة".


الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 21):


"(و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر 

الفتاوى الهندية (1/ 267):


"ويشترط العدد فلا ينعقد النكاح بشاهد واحد هكذا في البدائع، ولا يشترط وصف الذكورة حتى ينعقد بحضور رجل وامرأتين، كذا في الهداية. ولا ينعقد بشهادة المرأتين بغير رجل وكذا الخنثيين إذا لم يكن معهم

رجل هكذا في فتاوى قاضي خان." فقط واللہ اعلم


 


 Modern problems and their solutions islamic Knowledge Islamic Quotes Islamic Info 

 

0 Comments