New Mp3 mp4 Songs Free Download H4A
When the Hour comes the sun will be over their heads


When the Hour comes the sun will be over their heads

آج کی کلاس میں پڑھنے کو بالکل دل نہیں کر رہا تھا. استاد محترم نے بچوں کے ارادوں کو بھاپتے ہوئے آج لیکچر نہ 
لینے کا فیصلہ کیا. مگر ایسا ممکن نہیں تھا کہ ماجد صاحب کی کلاس ہو اور لیکچر فری گزر جائے. اس لئے انہوں نے آج ایک نہایت دلچسپ تحقیق متعارف کروانا چاہی.
سر نے بتایہ کہ انہوں نے ایک بار قرآن میں پڑھا تھا کہ" جب قیامت آئے گی تو پانیوں میں آگ لگ جائے گی".
مگر کیسے؟؟؟
اس کو جاننے کی جستجو لئے انہوں نے اس کو مزید تفصیل سے دیکھنا شروع کیا. کیونکہ قرآن کی بات تھی مصلحت سے خالی تو ہو نہ سکتی تھی.

اس کو دیکھنے کے لئے انہوں نے پانی کے خواص کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا کہ کیا واقع ہی پانی کو آگ لگ سکتی ہے. اور اگر ایسا ہے تو کیسے؟؟

اس کے لئے پانی کے طبعی اور کیمیائی خواص کا مطالعہ کیا گیا جس کے مطابق پانی دو چیزوں کا مرکب ہے یعنی جب ہائیڈروجن اور آکسیجن ملتے ہیں تو پانی بنتا ہے.
2H + O2 ------------------------> 2H2O
آکسیجن کیونکہ جلتی ہے اور ہائیڈروجن اسے جلنے میں مدد دیتی ہے. اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ان دونوں کو الگ الگ کر لیا جائے تو ایسا ہو سکتا ہے کہ پانی میں بھی آگ لگ جائے.
مگر ایسا  ممکن نہیں ہے. یعنی
2H2O  ---------------------------> 2H + O2
پانی سے ہائیڈروجن اور آکسیجن نکالنا ممکن نہیں ہے.
اب سوال یہ تھا کہ جب یہ دونوں مل جاتے
 ہیں تو ان کو دوبارہ الگ کیسے کیا جاسکتاہے؟؟
اس کی صرف ایک ہی صورت ہو سکتی ہے. وہ یہ کہ اگر پانی کو بہت زیادہ گرم کیا جائے.تو ایسا ممکن ہو بھی سکتا ہے.
 ایک تحقیق کے مطابق  پانی کواگر تین ہزار کیلون  3000K درجہ حرارت پہ گرم کیا جائے تو 0.001% آکسیجن اور ہائیڈروجن الگ ہو سکتی ہیں...

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر پانی کو بہت زیادہ درجہ حرارت مل جائے تو یہ دونوں چیزیں الگ ہو سکتی ہیں. مگر اتنا زیادہ درجہ حرارت آئے گا کیسے...؟؟

 اس زمین پہ اتنا درجہ حرارت پیدا کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے..

اس کا جواب بھی انہیں پھر قرآن سے ملا.
"اور جب قیامت ہوگی تو سورج سروں پہ ہوگا" القرآن

اب سورج کیونکہ حرارت کا منبع ہے. اور سورج کے اندرونی حصے کا درجہ حرارت 15.7 ملین ہوتا ہے.
جب سورج اتنا قریب ہو تو بڑی آسانی سے پانی سے آکسیجن اور ہائیڈروجن الگ ہو جائیں گی.
اور کیونکہ پانی اس دنیا کے 71 فی صد حصے پر موجود ہے اس لئے وہ سارے کا سارا آگ میں تبدیل ہوجائے گا. اور اس طرح قیامت والے دن ہر طرف آگ ہی آگ ہو گی...

بے شک اللہ تعالیٰ اپنی ایات کھول کھول کر بیان کرتا ہے مگر ہم لوگ اس پر غور نہیں کرتے.
بے شک قرآن کی ہر ہر بات میں اللہ تعالیٰ نے غور کرنے والوں کے لئے نشانیاں رکھی ہیں بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ثواب کی نیت کے ساتھ ساتھ قرآن کو سمجھنا بھی شروع کردیں تو اللہ ہمارے لئے بھی اپنی رحتوں کے دروازے کھول سکتا...

نوٹ: یہ واقعہ 2014 میں بارویں کلاس میں پیش آیا. مگر اس طرح سے لکھنے کا آج موقع ملا. میں اپنے جناح سائنس کالج کے اساتذہ اکرام کا بہت مشکور ہوں جنہوں نے مجھے قرآن کے حقیقی معنوں سے آشناس کروایا اور اس کو سمجھنا سکھایا. ان میں ماجد علی ماجد صاحب سرفہرست ہیں. اللہ تعالیٰ انہیں سلامت رکھے

1 Comments