New Mp3 mp4 Songs Free Download H4A
An amazing lesson The secret of economic catastrophe



An amazing lesson The secret of economic catastrophe




ایک حیرت انگیز سبق آموز واقعہ

معاشی تباہی کا راز
ایک مفتی صاحب کا بیان ہے 

کچھ ماہ قبل کی بات ہے ایک محبت و عقیدت کے رشتے میں بندھے ایک صاحب ملنے آئے اور بولے :

*مفتی صاحب ! میرا کاروبار بہت عمدہ تھا ۔ میں لاکھوں کماتا تھا ۔ گاڑی تھی ، بہترین زندگی تھی ۔ آج بھی وہی کاروبار ہے ، مگر گاڑی نہیں ، وہ خوشحالی نہیں ، دن بدن قرض کے بوجھ تلے دب گیا ، چونکہ رزق کی فراوانی تھی اور اب مشکل سے گزارا ہوتا ہے ۔ سنا ہے آپ روحانی علاج کرتے ہیں ، چیک کیجئے کوئی جادو ٹونہ و بندش و نظر بد نا ہو ۔ کاٹ کیجئے ، تعویذ دیجئے ، وظیفہ دیجئے تاکہ پھر سے وہی خوشحالی پر مبنی حالات لوٹ آئیں ۔ میں بہت پریشان ہوں .*

*یہ کہتے ہوئے صاحب رو پڑے ۔ میں نے ان سے کہا :*

*پریشان نا ہوں ۔ میں آپ کے گھر کے برتنوں پر دم کروں گا ۔ خوشحالی لوٹ آئے گی ۔*

*انہوں نے کہا کیا : مجھے گھر کے برتن لانے پڑیں گے ؟یا آپ گھر چلیں گے ؟*
*میں نے کہا : نہ میں گھر چلوں گا نا آپ کو برتن میرے پاس لانے پڑیں گے ۔بس کرنا یہ ہے ، دھونے والے برتن جب کچن میں جمع کئے جائیں تو ان آلودہ برتنوں کی تصاویر تین دن کی روز لی جائیں اور چوتھے روز وہ تصاویر موبائل میں لے آئیں ۔ میں ان پر دم کردوں گا ۔ انشاءاللہ سب ٹھیک ہوجائے گا ۔*

*تین دن بعد جب تصاویر سامنے آئیں ، تو برتن دیکھے ، تو کسی برتن میں کچھ سالن تھا ، کسی میں کچھ ۔ یعنی ( رزق ) کھانا ضائع ہورہا تھا اور دھل کر گندے نالے میں جا رہا تھا ۔*
*میں نے پوچھا : یہ برتن ہیں ، ان میں کھانا ہے ، جیسے سالن وغیرہ اس کا کیا کرتے ہیں ؟*

*وہ صاحب بولے : ظاہر ہے کہ دھل کر یہ سب نالی میں جائے گا ۔ میں نے ان سے کہا کہ میں دم نہیں کروں گا ۔ انہوں نے وجہ پوچھی تو قصہ مختصر ۔*

*میں نے کہا : آج کے بعد بچا ہوا کھانا اس طرح برتن دھل کر گندے نالے ، یا کوڑے میں نہیں پھیکنا ، بلکہ برتن اچھی طرح کھانا کھاتے ہوئے صاف کرنے ہیں ، اتنا ڈالیں جتنا آپ کو کھانا ہے اور بچ جانے والا کھانا کسی غریب کو یا چھت پر جانوروں ، بلی یا پرندوں کو کھلادیں ۔ قصہ مختصر رزق کی بے ادبی نہ ہو ۔*
*انہوں نے وعدہ کیا کہ آج کے بعد ایسا ہی ہوگا ۔ جو جو رزق کی بے ادبی کی صورتیں آپ نے بیان کی ہیں ، آج کے بعد ان میں سے کوئی بھی نہیں ہوگی ۔ میں نے ان کی تسلی کے لئے 21 دفعہ برتن پر سورۃ الفاتحہ پڑھ دی کہ نفسیاتی طور پر ان کو تسلی ہو کہ واقعی دم کیا ہے ۔*

*کچھ دن بعد وہ ملنے آئے اور مجھ سے گلے ملے اور رونا شروع کردیا . ہاتھ چومے اور حد سے زیادہ عقیدت کا اظہار کیا اور بولے :*

*مفتی صاحب ! اب میرا کاروبار بہت بہتر ہوگیا ۔بہترین اور بڑے بڑے آرڈر دوبارہ ملنا شروع ہوگئے ۔ آپ کے دم نے تو کمال کردیا ۔*

*میں نے ان سے کہا : حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق رزق کی بے ادبی تنگ دستی لاتی ہے ۔ آپ نے کاروبار بیان کیا ۔ اس میں کوئی شرعی خرابی نہ تھی ۔ آپ نماز بھی پڑھتے ہیں تو مجھے اس وقت آئیڈیا ہوا کہ کہیں رزق کی بے ادبی کے شکار نہ ہوں ۔ آپ نے رزق کا ادب شروع کیا تو وہ واپس لوٹ آیا ۔ بس اتنی سی بات تھی ۔*

*اس نے عزم مصمم کیا کہ ان شاء اللہ مرتے دم تک رزق کے ایک ذرے کو ضائع نہیں ہونے دوں گا اور اس کے ادب و تعظیم میں کوئی کسر نہ چھوڑوں گا ۔ میں نے کہا ، اگر تم نے واقعی ایسا کیا تو واپس گاڑی بھی آئے گی اور بینک بیلنس بھی ۔*
اللہ پاک ہمیں رزق کا ادب کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

0 Comments