New Mp3 mp4 Songs Free Download H4A
Corona virus has virtually shut down the world world economy

Corona virus has virtually shut down the world world economy
  • قسمت کے دروازے


کراچی کے بعد فیصل آباد ٹیکسٹائل اور گارمنٹس انڈسٹری ہمارے ملک میں ایکسپورٹ حب سمجھی جاتی ہے.
اگر کہا جاۓ  تو یہ غلط نہ ہو گا کہ ڈائرکٹ اور انڈائرکٹ لاکھوں ورکرز ان ٹیکسٹائل ملوں سے وابستہ ہیں اور اپنا گزر بسر کر رہے ہیں 
اور بلا مبالغہ کئی سالوں سے ان ٹیکسٹائل ملز کے مالکان لاکھوں کروڑوں روپے منافع کما رہے ہیں.  اور ان ملز میں کام کرنے والے یہ مزدور اور مینیجر اپنا خون پسینہ بہا کر شب و روز انتھک محنت کے زریعے اپنی بہترین اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی مدد سے ان ملز کی پروڈکشن اور ترقی میں ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں.
  • ٹیکسٹائل ملز

 ہمیشہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جب بھی حالات بدلے اور مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑا تو ان ٹیکسٹائل ملز مالکان کی اکثریت نے نہ کسی برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کیا اور نہ ہی اپنے ملازمین کا ساتھ دیا. کبھی ڈاؤن سائزنگ کے نام پر اور کبھی سلو پروڈکشن کا کہہ کر ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کو ملازمتوں سے فارغ کر دیا.
یہ بات اپنی جگہ ایک وزن رکھتی ہے کہ ملز مالکان کاروبار منافعے کے لیے کرتے ہیں مگر صبر، برداشت ، تحمل اور حکمت عملی بھی کوئ چیز ہوتی ہے.
  • کرونا وائرس

کرونا وائرس نے پوری دنیا کو جہاں عملی طور پر بند کر دیا وہاں دنیا کی معشیت بھی تباہی کے دہانے پر پہنچا دی ہے اور پاکستان میں بھی اس کے اثرات بہت گہرے ہیں.

جیسا کہ بہت سارے لوگ جانتے ہیں ۲۰۰۲ سے ۲۰۰۶ تک لاہور میں گارمنٹس کی بہت فیکٹریز ہوا کرتی تھیں جو کہ آہستہ آہستہ کوٹہ کے ختم ہونے اور گارمنٹس آرڈرز کی کمی کے باعث بند ہوتیں گئیں انہی فیکٹریز میں سے ایک فیکٹری میرے اس دوست کی بھی تھی جو آڈرز کی کمی کا شکار تھا مگر اپنی خدا ترس طبعیت کے باعث اپنے ملازمین کو فارغ نہیں کرنا چاہتا تھا دو تین ماہ تو انکی تنخواہیں ادا کرتا رہا مگر حالات دن بدن فیکٹری کی بندش کی طرف جا رہے تھے مگر پھر اچانک کچھ ایسا ہوا کہ اسنے مزید ملازمین کو رکھنا شروع کر دیا اور اسکا کام چل نکلا.
ایک دن بیٹھے بیٹھے میں نے اس سے جاننا چاہا کہ آخر اس نے ایسا کیا مختلف کیا کہ ریسیشن کے دور میں بھی تم بہترین جا رہے ہو تو اسنے جو بتایا وہ آج اس مشکل وقت میں آپ سب سے شئیر  کرنا چاہوں گا . اسنے بتایا کہ کامُ کے برے حالات تھے اور اورہیڈز کو برداشت کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا اور ہماری فیملی نے اس کام کو بند کرنے اور ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کر لیا مگر اسی روز مجھے میرے والد کے ایک پرانے دوست ملے جو بہت بزرگ طبعیت انسان ہیں اور ہمیشہ گھر اور کاروبار ی پریشانیوں میں میری رہنمائ کرتے رہتے تھے انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ جہاں تم نے تین ماہ اپنے ملازمین کو بغیر کام کے تنخواہ دی اور برداشت کیا وہاں ایک دو ماہ اور دیکھو بلکہ ایک کام کرو کچھ اور لوگوں کو ملازمت پر رکھو. میں انکی بات سن کر حیران ہوا مگر ان سے محبت اور عقیدت کا ایک رشتہ ہونے کے باعث میں نے ہمیشہ انکے مشوروں پر عمل کیا تھا تو اس دفعہ بھی میں نے اس مشورے پر عمل کیا اورہر کھاتے یا ڈپارٹمنٹ میں نئے لوگ رکھنے شروع کر دئیے . میری فیکٹری میں کچھ لوگ مجھے پاگل سمجھ رہے تھے اور کچھ چلاک.ساتھ ساتھ ہمُ نئے آرڈرز تو تلاش کر ہی رہے تھے کہ اچانک ہمیں یورپ اور امریکہ سے بڑے آڈرز ملنا شروع ہو گئے اور ہمارا ڈوبتا جہاز پھر سے بھاگنے لگا.
میں شکریہ ادا کرنے اپنے والد صاحب کے دوست کے پاس گیا اور ان سے پوچھا انکل اگرچہ آپ کے مشورے پر عمل کرتے ہی اللہ تعالی نے اپنے خاص کرم کے دروازے کھول دیے مگر آپ نے مجھے مشکل وقت میں بھی اور لوگوں کو رکھنے کا کیوں بولا تھا جبکہ آپ جانتے تھے کہ میں پہلے ہی ملازمین کی تنخواہوں اور بلوں سے تنگ آ چکا تھا تو انکے جواب نے مجھے حیران کر دیا.
وہ کہنے لگے میان برخودار جب نئے لوگ آتے ہیں تو وہ اپنا نصیب اور رزق لے کر آتے ہیں اور بعض اوقات انکے نصیب کی وجہ سے پہلے سے موجود لوگوں کا نصیب بھی کھل جاتا ہے.

انکا جواب بجا طور پر ان حالات میں ہم سب لوگوں کے لیے بھی مشعل راہ ہے
  • لاک ڈاؤن

پورا ملک ۲۲ مارچ سے بند ہے اور آخری اطلاعات آنے تک لاک ڈاؤن کو ۳۰ اپریل تک بڑھا دیا گیا ہے. رمضان المبارک بھی ۲۴ اپریل سے شروع ہو جاۓ گا تو ان سخت حالات کے پیش نظر میں خاص طور پر ٹیکسٹائل ملز مالکان ، پرائیویٹ سکول اونرز اور ہر طرح کی فیکٹری ، دکان اور مکان کے مالکان سے ہاتھ باندھ کر ایک گزارش کروں گا کہ خدایا اس نازک مرحلے پر بے حسی اور روایتی جلد بازی کا مظاہرہ نہ کریں اور کم از کم تین ماہ تک اپنے ملازمین کو برداشت کریں. پرافٹ کمانے کے لیے پوری زندگی پڑی ہے اگر اللہ تعالی نے چاہا تو آپ کاکام ترقیوں کی وہ منازل تہہ کرے گا جسکی مثال دی جاۓ گی...!
یاد رکھیں
شجر سایہ دار بنیں،
آپ کا کاروبار دوڑ پڑے گا
پھل والے درخت بنیں،
آپکی “ قسمت کے دروازے “ کھول دیے جائیں گے
جو درخت , پھل یا سایہ نہ دیں وہ کاٹ دیے جاتے ہیں
انکااستعمال صرف ایندھن کے طور پر جلانے کے لیے کیا جاتا ہے۔۔۔!!!

0 Comments