New Mp3 mp4 Songs Free Download H4A
Food storage due to lock down is very bad habbit of peoples
  •   اللہ والے

محلے کے ہر دلعزیز شخص عبداللہ نے اپنی گلی کے دو تین گھروں میں لاک ڈاون کے سبب کھانے کے سامان کی تنگی کا حال اپنی بیوی سے سنا اور اس نے یہ احوال محلے کے ایک دین دار شخص ڈاکٹر احسان سے بیان کرڈالا ڈاکٹر صاحب مالی حیثیت میں مضبوط ہونے کے ساتھ باقاعدہ درس قرآن کا اہتمام کرتے اور خود قرآن بیان فرماتےاسکے علاوہ کھانے اور چائے کا اہتمام بھی کرتے ڈاکٹر صاحب عبداللہ کی بات سنکر کہنے لگے بڑی دیر کی یہ خبر لانے میں ابھی کچھ دن پہلے ہی جماعت نے راشن بانٹا تھا،چلو آئندہ دیکھتے ہیں -
عبداللہ
عبداللہ سادہ آدمی تھا اور اپنے پڑوسیوں کے حال پر بہت پریشان تھا، یکدم بول پڑا ڈاکٹر صاحب آپ میرے حالات سے تو واقف ہی ہیں اور آپ کے لیئے تین راشن دلوانا بڑی بات نہیں ، ڈاکٹر صاحب بولے دیکھو میاں! میں جو بھی مدد کرتا ہوں جماعت کے ذریعے کرتا ہوں سو وہ کر چکا، اب اگر اللہ نے انکے نصیب کا بھیجا تو آپ کو ضرور بتاوں گا !
عبداللہ وہاں سے اٹھا اور دوسری گلی میں حاجی صدیق قادری کے گھر جا پہنچا جہاں ہر جمعہ کو درس ہوتا تھا ،سارا احوال بیان کیا اور جواب سنکر مزید پریشان ہوگیا صدیق صاحب نے فرمایا میاں تم سنت طریقوں سے ناواقف ہو،
 سب سے پہلے اپنے خون کے رشتوں اسکے بعد دیگر اقرباء
 پھر پڑوس کا حق بنتا ہے اور سب سے بڑھکر ہمارے اپنے اسلامی بھائیوں کا ان میں لاکھوں حق دار ہیں اور ہم اپنے مرشد کے ساتھ ملکر اپنے بھائیوں کی مدد کر رہے ہیں ،میں تمہیں ایک وظیفہ لکھ کر دیتا ہوں وہ انہیں ہدیہ کردو !
 یہاں سے مزید بے چینی سمیٹ کر وہ اپنی ہی گلی کے الحاج عمر خان کے گھر جا پہنچا الحاج صاحب نے فرمایا میاں ہم تو ہر وقت اللہ کی راہ میں نکلتے ہی رہتے ہیں اور تم یہ راشن کی حاجت ایک بندے سے بیان کر رہے ہو اگر رب سے بیان کی ہوتی تو کسی بندے سے نہ کہنا پڑتا ویسے بھی ان غرباء کے دائیں بائیں رہنے والوں کا حق ہے کہ انکی مدد کریں یہ سنکر عبداللہ مزید پریشان ہوگیا کیونکہ وہ دائیں بائیں رہنے والوں کو جانتا تھا، ایک شرابی تھا اور دوسرا ساری زندگی سے  ناشتہ چائے پاپے سے کرتا اور ان غرباء کے گھر سے آیا ہوا کھانا ایک ٹائم کھاتا اور مست رہتا نہ کسی کی برائی میں نہ اچھائی میں-
  • شرابی ساغر

عبداللہ شرابی ساغر کے پاس فریاد لے کر حاضر ہوا ساغر نے عبداللہ کو دروازے پر دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہنے لگا، زہے نصیب گناہ گار کے دروازے پر فرشتہ!
عبداللہ عاجزی سے بولا ساغر بھائی، طنز نہ کریں تو کچھ عرض کروں ساغر اسے گھر کے اندر لے گیا خو چ
ائے تیار کرکے بسکٹس کے ساتھ پیش کی اور سارا احوال مکمل سنے بنا کہنے لگا،آج اللہ نے میری سن لی تبھی مجھے اس نیک کام کے لیئے چنا! میرے پاس ایک ماہ کی شراب کے پیسے رکھے ہیں کل ہی لینے جاتا یہ کہ کر اس نے بیس ہزار روپے نکال کر عبداللہ کے ہاتھ پر رکھ دیئے اور پیار سے کہنے لگا بھائی آپ بھی دیہاڑی پر بڑھئی کا کام کرتے ہیں اس لیئے اس رقم سے چار راشن لے لینا، مجھے اگلے ماہ سرکار سے جیسے ہی تنخواہ ملے گی میں مزید رقم اس نیک کام کے لیئے دے جاوں گا ۔ عبداللہ کے ہونٹوں پر لفظ نہیں تھے پر آنکھوں میں ہدیئے کے موتی ضرور تھے وہ خوشی و غم کے جذبات کے ساتھ بولا! بھائی ساغر، یہ مدد آپ اپنے ہاتھوں سے کریں تو زیادہ اچھا ہوگا ساغر نے کہا میں آپ کو بچپن سے جانتا ہوں آپ دیندار ہیں مگر دو نمبر نہیں یہ موقع مجھے آپ جیسے باعمل انسان کی وجہ سے نصیب ہوا ہے اب اس کام میں آپ ہی آگے رہیں گے عبداللہ سارا احوال ساغر کو بتانا چاہتا تھا مگر کسی طاقت نے اسے روک دیا اور اسے ایک بات سمجھ آئی کہیں دین بدنام نہ ہوجائے اور وہ جزاک اللہ کہ کر رخصت ہوگیا-
محفل

 اس دن کے بعد سے عبداللہ نے ڈاکٹر اور قادری صاحب کی محفل  کے ساتھ گشت بھی چھوڑ دیا اب محفل ساغر کے گھر ہوتی ہے عبداللہ تلاوت کرتا ہے ساغر قرآن حکیم بیان فرماتا ہے اور تینوں پڑوسی بمعہ اہل و عیال عبداللہ کے بیوی بچوں کے ساتھ قرآن کی تعلیمات سمجھتے اور اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔
چند ماہ میں یہ پانچ گھر سے دس گھر ہوگئے ہیں اور ایک معاشرہ قائم ہونے لگا ہے کہیں مدد کی ضرورت پیش آجائے تو یہ اپنی جیب سے کرتے ہیں ان کا کہنا ہے ہم ایک کے ستر گنا منافع کا کاروبار کسی اور کو تب دیتے ہیں جب اللہ نے کسی اور کو چن لیا ہو ساغر بھائی کی طرح!

0 Comments