New Mp3 mp4 Songs Free Download H4A
Fasting and Religious Issues Discribed in this Paragraph

Fasting and Religious Issues Discribed in this Paragraph

 قئے کرنا Vomiting 


اگر روزے کے دوران بلا اختیار اور بلا قصد خود بخود قئے ھو گئی تو روزہ فاسد نہیں ہوگا چاہے قئے تھوڑی سی ہوئی یا زیادہ دونوں صورتوں میں روزے برقرار رہے گا۔
اگر اپنے اختیار سے قئے کی اور منہ بھر کے قئے ہوگئی تو روزہ فاسد ہوگیا۔
اگر اپنے اختیار سے قئے کی اور منہ بھر کے قئے نہیں ہوئی تو روزہ فاسد نہیں ہوگا۔
 اگر اچانک تھوڑی سی قئے آگئی پھر بلا اختیار خود بخود حلق میں واپس چلی گئی تو روزہ فاسد نہیں ھو گا۔ہاں اگر قصدا لوٹا لی تو روزہ فاسد ہو جائے گا۔
اگر قئے منہ بھر کر آئی اور ایک چنے کے برابر یا اس سے زائد جان بوجھ کر اپنے اختیار سے واپس لوٹا لی تو روزہ فاسد ہو جائے گا،قضا لازم ہوگی، کفارہ نہیں۔ 
اگر کسی کو قئے اور وہ یہ سمجھا کہ میرا روزہ ٹوٹ گیا، اس گمان پر قصدا روزہ توڑ دیا تو بھی قضا واجب ہے، کفارہ واجب نہیں، کیونکہ روزہ توڑنے کا ارادہ نہیں تھا۔

  •  کان 


روزے کی حالت میں کان میں تیل ڈالنے سے روزہ فاسد ھو جاتا ہے۔
 اکثر علماء کے نزدیک روزے کی حالت میں کان میں تر دوا جیسے ڈراپس Drops ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے لہذا احتیاط کی ضرورت ھے اسی طرح اگر روزے کی حالت میں *خشک سفوف اور پائوڈر وغیرہ دوا کے طور پر کان میں ڈالا ہے اور اندر تک پہنچ گیا ہے تو روزہ فاسد ھو جائے گا۔اور اگر اندر تک نہیں پہنچا تو روزہ فاسد نہیں ہوگا۔اور فاسد ہونے کی صورت میں قضا لازم صرف ھو گی۰
مسوڑھوں سے خون نکلنا

اگر روزے دار کے مسوڑھوں سے خون نکلتا ہے تو جاگنے کی صورت میں اسے تھوک دے اندر نہ نگلے۔
اگر روزے دار کے مسوڑھوں سے خون نکل کر سونے کی حالت میں خود بخود بلا اختیار تھوک حلق سے نیچے اتر جاتا ہے تو *روزہ فاسد نہیں ہوگا، البتہ صحت کے بعد احتیاطا روزے کی قضا کر لینا بہتر ہے۔
 البتہ اگر خون تھوک سے غالب ہے اور تھوک کا رنگ سرخ ہوگیا ہے اور اپنے اختیار سے اندر نگل لے تو روزہ فاسد ہو جائے گا،قضا لازم یوگی کفارہ نہیں۔

  • ناک 

 ناک کی راہ سے پانی پہنچانے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، ہاں اگر ناک سے پانی پہنچانے کی صورت میں پانی حلق میں چلا گیا اور روزہ یاد بھی ہے تو روزہ فاسد ہو جائے گا۔قضا لازم ہوگی، کفارہ نہیں، اور اگر روزہ یاد نہیں تھا تو روزہ فاسد نہیں ھو گا اور اگر پانی ناک کی راہ سے دماغ تک پہنچ گیا ہے تو اس صورت میں ایک روزہ قضا کرنا لینا چاہیے۔
 روزے کی حالت میں ناک کو اتنی زور سے سنک لیا کہ حلق میں چلی گئی تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا۔
 ناک میں تر دوا ڈالنے سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے،اگر خشک چیز ڈالی گئی اور یقینی طور پر اندر پہنچ گئی تو روزہ فاسد ہو جائے گا ورنہ نہیں۔

نکسیر پھوٹ جانا

 روزے کی حالت میں نکسیر پھوٹ گئی، یہاں تک کہ اس کا اثر تھوک میں بھی ظاہر ہوا تو روزہ فاسد نہیں ہوگا،بشرطیکہ نکسیر کا خون پیٹ میں نہ گیا ہو، اگر خون پیٹ میں جائے گا تو روزہ فاسد ہوجائے گا،قضا لازم ہوگی ،کفارہ نہیں۔
 نکسیر کا خون حلق میں پہنچ کر پیٹ میں چلا گیا تو روزہ فاسد ھو گیا قضا واجب ہے، کفارہ واجب نہیں۔

  • وکس VEX لگانا 

روزہ کے دوران جسم کی بیرونی حصے میں وکس لگانے سے روزہ فاسد نہیں ہوگا البتہ گرم پانی میں وکس ڈال کر بھانپ لینے سے روزہ فاسد ھو جائیگا قضا لازم ہوگی کفارہ نہیں۔


  • ہونٹوں پر سرخی Lipstick لگانا

عورت کو روزے کی حالت میں ہونٹوں پر سرخی لگانا جائز ہے البتہ منہ کے اندر جانے کا احتمال ہو تو مکروہ ہے۔

  •  ہمبستری

رمضان کے روزے کے دوران ہمبستری کرنے سے قضا اور کفارہ دونوں لازم ہیں۔
جب مرد کے پیشاب کے مقام کی سپاری اندر چلی گئ تو روزہ فاسد ہوگیا۔قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے چاہے انزال ہو یا نہ ہو۔
نیز اگر مرد نے پاخانہ کی جگہ اپنا عضو داخل کر دیا اور سپاری اندر چلی گئ تو مرد اور عورت دونوں کا روزہ فاسد ھو گیا ،دونوں پر قضا اور کفارہ لازم ہیں۔
واضح رہے کہ پاخانہ کی جگہ استعمال کرنا کسی حال میں بھی جائز نہیں ہے اور عورت کے لئے اس پر راضی ہونا بھی جائز نہیں ہے۔

 ہوائی سفر میں روزے کا حکم
اگر کوئی روزہ دار ہوائی جہاز کے ذریعہ مشرق کی طرف جاتا ہے تو اس کا دن چھوٹا ھو جاتا ہے تو وہ سورج غروب ہونے کے بعد افطار کرے چاہے دن کتنا ہی چھوٹا ہو،کیونکہ روزے کا معنی صبح صادق سے سورج غروب ہونے تک کھانے پینے اور میاں بیوی کے خاص تعلقات سے باز رہنے کا نام ہے۔
اگر روزہ دار ہوائی جہاز کے ذریعہ مغرب کی طرف جاتا ہے تو دن لمبا ہوجاتا ہے تو اس صورت میں صبح صادق سے 24 گھنٹے کے اندر جب بھی سورج غروب ہوجائے تو غروب ہونے کے بعد افطار کرے۔
اور غروب کا اعتبار نیچے زمین کے اعتبار سے کیا جائے فضا کے اعتبار سے نہیں۔
اگر سورج صبح صادق سے لے کر چوبیس گھنٹے کے اندر غروب نہ ہو تو اس صوت میں چوبیس گھنٹے پورے ہونے سے اتنا وقت پہلے افطار کرلے کہ اس میں ضرورت کے بقدر کھا پی سکے۔
اگر ابتدائے صبح صادق کے وقت سفر میں تھا تو روزہ فرض تو ہوگا لیکن سفر کی وجہ سے اس وقت روزہ رکھنا لازم نہیں ہوگا ۔لہذا اس سفر میں روزہ نہ رکھے بعد می قضا رکھ لے۔
اگر ابتدائے صبح صادق کے وقت مسافر نہ تھا تو اس صورت میں روزہ رکھنا فرض ہوگا۰اگر اتنے طویل دن کا روزہ نہیں رکھ سکتا تو سفر کرنا جائز نہیں ہوگا۔تاھم اگر کسی نے سفر کی مشقت کیوجہ سے روزہ توڑ دیا تو اب صرف قضاء لازم ھے کفارہ نہیں۰


  •                                                               ہوٹل کھولنا

-رمضان المبارک کے احترام کی خاطر دن کے وقت ہوٹل بند رکھنا ضروری ہے خواہ کھانے پینے والے کسی بھی مذہب کے ہوں۔

  • ہونٹ تھوک میں تر ھو جانا


-اگر کسی کے ہونٹ باتیں کرتے وقت یا اور کسی وقت تھوک میں تر ہوجائیں پھر اس کو نگل جائے تو روزہ فاسد نہیں ھو گا۰

*وَ آخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِله ربِّ الْعَلمِین*

0 Comments